حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے استاد اور اسلامی طرزِ مشاورت کے ماہر حجۃ الاسلام والمسلمین رضا یوسف زادہ نے بچوں کی دینی تربیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بچوں کو دین کی طرف راغب کرنے کا درست طریقہ کیا ہے۔ صرف احکام سکھانا، قرآن حفظ کرانا اور دینی رسومات سے واقف کرنا کافی نہیں، بلکہ بچوں کے دل و دماغ میں دین کے لیے محبت اور لگاؤ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو دین پر عمل کرنے کے لیے زبردستی کرنا یا سزا اور خوف کے ذریعے انہیں دینی کاموں کا پابند بنانا درست تربیتی طریقہ نہیں ہے۔ اس سے بچے وقتی طور پر فرمانبردار تو ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے دل میں دین کی حقیقی محبت پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، محبت، سمجھانے اور بچے کی عمر و صلاحیت کا خیال رکھنے سے دینی تربیت زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔
دینی تعلیم اور تربیت میں فرق
رضا یوسف زادہ کے مطابق، دینی تعلیم تربیت کا ایک حصہ ہے، مکمل تربیت نہیں۔ بچے کو قرآن پڑھنا، نماز کے احکام جاننا اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے واقف ہونا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ اس کے اخلاق، جذبات، عادات، سماجی تعلقات اور خدا سے رابطے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بچے کو نماز کے احکام تو یاد ہوں، لیکن نماز سے محبت نہ ہو اور اس کی زندگی پر اس کے اچھے اثرات ظاہر نہ ہوں تو صرف تعلیم دینے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچے کے لیے دین کو محض چند احکام کے بجائے ایک خوب صورت اور بامعنی تجربہ بنایا جائے۔
بچے کی عمر کے مطابق تربیت ضروری
اسلامی ماہرِ مشاورت نے کہا کہ بچوں کی تربیت میں ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کا خیال رکھنا چاہیے۔ تربیت کے طریقے بچے کی عمر کے ساتھ بدلتے ہیں، اگرچہ اس کا بنیادی مقصد وہی رہتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے ایسا محفوظ اور محبت بھرا ماحول فراہم کریں جس میں ان کی صلاحیتیں نکھر سکیں۔
دینی اور غیر دینی تربیت میں فرق
انہوں نے دینی اور غیر دینی تربیت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر دینی تربیت کا بنیادی مقصد ایک کامیاب، قانون کی پابندی کرنے والا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا شہری بنانا ہوسکتا ہے، جبکہ دینی تربیت انسان کو دنیاوی زندگی کے ساتھ آخرت اور زندگی کے وسیع تر مقصد سے بھی جوڑتی ہے۔ اس طرح مشکلات، ناکامیوں اور موت جیسے سوالات کا سامنا کرتے وقت انسان کو زندگی میں معنی اور امید کا احساس ملتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دینی تربیت میں اخلاقی اصولوں پر عمل کرنے کی بنیاد صرف سماجی فائدہ یا دوسروں کی رائے نہیں، بلکہ خدا کی موجودگی کا احساس بھی ہے۔ اسی طرح روزہ، انفاق اور دیگر دینی اعمال بچوں میں صبر، خود پر قابو رکھنے اور دوسروں کا خیال کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔
رضا یوسف زادہ نے آخر میں کہا کہ بچوں کی حقیقی دینی تربیت نہ محض تعلیم دینے کا نام ہے اور نہ ہی زبردستی کا، بلکہ اس کا مقصد محبت، رہنمائی اور مناسب ماحول کے ذریعے بچے کی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اور اسے ایک صالح انسان بنانا ہے۔










آپ کا تبصرہ